add

adad calculater

ابجد اور ایام کیلکولیٹر (اردو کی پیڈ)

ابجد و ایام کیلکولیٹر

یہاں تحریر آئے گی...
کل عدد: 0
اردو کی پیڈ (حروفِ ابجد)
ایام کے فکس اعداد
mufti arzumand saad

Question: Is it possible to eliminate sectarianism?

**Question: Is it possible to eliminate sectarianism?** **Answer:** As far as the clear teachings of the Qur'an and Sunnah are concerned, the answer to this question appears to be **in the negative**. This is because the Prophet Muhammad ﷺ foretold that this Ummah (Muslim nation) would split into 73 sects. For example, there is a narration in **Jami‘ al-Tirmidhi**: **Jami‘ al-Tirmidhi – Shakir + Al-Albani – (5 / 26)** *“Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘What befell the Children of Israel will befall my Ummah, step by step, like the resemblance between the two shoes of a pair. Even if there was one among them who committed incest with his mother openly, there will be someone in my Ummah who will do the same. And indeed, the Children of Israel were divided into 72 sects, and my Ummah will be divided into 73 sects. All of them will be in Hell except one.’ The companions asked, ‘Who are they, O Messenger of Allah?’ He replied, ‘Those who follow what I and my companions are upon.’”* Abu ‘Isa (al-Tirmidhi) said: *This is a detailed and rare Hadith; we do not know it except through this chain.* Shaykh al-Albani graded it as *Hasan (sound).* Similarly, in **Musnad Abi Ya‘la**, we find: **Musnad Abi Ya‘la – Verified – (7 / 36)** *Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Children of Israel split into 71 sects, and my Ummah will split into 72 sects. All of them will be in the Hellfire except the majority group (al-Sawad al-A‘zam).’* Muhammad ibn Bakr said: *This means the main body (of the Muslim community).* These and other similar Hadiths, transmitted through multiple chains, clearly indicate that the Prophet ﷺ foretold the division of this Ummah. We firmly believe that the entire world can be wrong, but **no prophecy of the Prophet ﷺ can ever be false**. Therefore, it is certain that the Ummah will divide and that sectarianism will inevitably exist. We **cannot prevent it**, nor can we **completely unite** the Ummah. In such circumstances, our responsibility is to remain with **al-Sawad al-A‘zam (the main body)** and **Ahl al-Sunnah wa’l-Jama‘ah**, and to distance ourselves from the deviant sects. **May Allah protect us all. Ameen.**

فطرانہ میں نقد رقم

فطرانہ میں نقد رقم ادا کرنا
سوال:کیا فطرانہ میں نقد رقم ادا کرنا جائز ہے ؟ دلائل سے جواب دیں ۔
جواب :الحمد للہ وکفی والصلاۃ والسلام علی سید الرسول والانبیاء اما بعد۔
صدقہ فطر دینا ہر صاحب نصاب کا فریضہ ہے ۔
صاحب نصاب اپنی وسعت کے مطابق گندم ،آٹا،کھجور،کشمش سے میں سے جس سے چاہے صدقہ فطر ادا کرسکتا ہے۔
صدقہ فطر میں مساکین کی ضروریات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
احادیث میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ صدقہ فطر میں نقد رقم دی جائے ۔
چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت موجود ہے 
مصنف ابن أبي شيبة - (3 / 174)
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ عَوْفٍ، قَالَ : سَمِعْتُ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُقْرَأُ إلَى عَدِيٍّ بِالْبَصْرَةِ : يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الدِّيوَانِ مِنْ أَعْطِيَّاتِهِمْ ، عَنْ كُلِّ إنْسَانٍ نِصْفُ دِرْهَمٍ.
ترجمہ:یعنی عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے یہ اجازت دی ہے کہ صدقہ فطر میں نصف درھم ادا کیا جائے ۔
مصنف ابن أبي شيبة - (3 / 174)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ قُرَّةَ ، قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ : نِصْفُ صَاعٍ عَنْ كُلِّ إنْسَانٍ ، أَوْ قِيمَتُهُ نِصْفُ دِرْهَمٍ.
ترجمہ:عمر بن عبد العزیز نے اس بات کی اجازت دی کہ ہر انسان نصف صاع کے بدلے درھم دے۔
مصنف ابن أبي شيبة - (3 / 174)
10471- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ تُعْطِيَ الدَّرَاهِمَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ.
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر میں دراھم دینا جائز ہے۔
مصنف ابن أبي شيبة - (3 / 174)
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يَقُولُ : أَدْرَكْتُهُمْ وَهُمْ يُعْطُونَ فِي صَدَقَةِ رَمَضَانَ ، الدَّرَاهِمَ بِقِيمَةِ الطَّعَامِ.
ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے ان کو دیکھا کہ وہ صدقہ رمضان میں طعام کی قیمت دیا کرتے تھے ۔
ان تمام روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ صدق فطر کی قیمت دینا بھی جائز ہے ۔واللہ اعلم بالصواب


mufti arzumand saad

روزہ کس آذان کے ساتھ بند کریں

سوال:ہمارے علاقے میں مختلف آذانیں دی جاتی ہیں جن میں بعض بہت سویرے دی جاتی ہیں جبکہ کچھ آذانیں بہت دیر سے دی جاتی ہیں ۔
ہم کس آذان کے ساتھ روزہ بند کریں ۔جزاکم اللہ خیرا کثیرا
الجواب حامدا ومصلیا
روزہ بند کرنے اور کھولنے کا تعلق آذان سے نہیں

کیا فرقہ واریت کا خاتمہ ممکن ہے

سوال:کیا فرقہ واریت کا خاتمہ ممکن ہے ؟
جواب:جہاں تک قرآن و سنت کی واضح تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تواس سوال کا جواب ہمیں نفی میں ملتا ہے،
اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اس بات کی پیشن گوئی فرمائی ہے

ایک آیت پر اشکال کا جواب

ایک آیت پر اشکال کا جواب

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚفَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا ؀ۧ

اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام

(ترجمہ عثمانی سورۃ نساء ایت نمبر ۵۹)

اللہ تعالٰی کی یہ کتاب قرآن پاک ہے، اس میں اطاعت  اتباع، حکم اور رد میں تین درجے بیان کیئے ہیں  ، سب سے پہلے اللہ تعالٰی فرماتے ہیں ، اَطِيْعُوا اللّٰهَ اللہ کا حکم مانو، اس کا مطلب ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کی اس کتاب قرآن پاک  پر ایمان لے آئیں،سب مسلمانوں نے جب یہ اَطِيْعُوا اللّٰهَ سنا تو اس کو مان لیا اس کے بعد آگے آیااَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ، تو کچھ مسلمان کہلانے والے لوگ جو تھے انہوں نے کہا کہ رسول کو ماننا خدا کا انکار کرنا ہے ہم اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ نہیں مانتے انہوں نے نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا انکار کر دیا۔اور بہانہ یہ بنا دیا کہ رسول مخلوق ہے خدا خالق ہے، خالق مخلوق میں بڑا فرق ہے ، ہم دونوں کو گڑ بڑ نہیں کرنا چاہتے ہم حدیث اور سنت کو نہیں مانتے لیکن الحمد للہ ہم نے یہاں بھی کہا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ائے اللہ ہم نے تیری بات سنی ہم  اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ پر ڈٹ چکے ، اگے اللہ تعالٰی نے فرمایا  وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ  اور وہ لوگ جو اہل استنباط ہیں خود قرآن نے اس کا معنٰی بتایا ہے۔ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ  استنباط کہتے ہیں کنواں نکالنے کو،

اذا صح الحدیث فھو مذھبی کا اصل مطلب


اذا صح الحديث فھو مذہبی

(وسوسہ: اماموں نے اپنی تقلید سے منع کیا ہے کہ صحیح حدیث پر عمل کو ہمارا بھی عمل یہی ہے)

امام  نوویؒ  نے اپنی کتاب (المجموع ) کے مُقدمہ میں اس کا جواب دیا ہے:

وهذا الذي قاله الشافعي ليس معناه أن كل واحد رأى حديثًا صحيحًا قال: هذا مذهب الشافعي، وعمل بظاهره وإنما هذا فيمن له رتبة الاجتهاد في المذهب الخ

سعودی میں رہنے والے فطرانہ کس حساب سے دیں

سوال کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں سعودی عرب میں مقیم ہوں جبکہ میری اولاد اور بیوی پاکستان میں رہتے ہیں ۔اب صدقۃ الفطر ادا کرنا ہے تو میں پاکستان میں صدقۃ الفطر ادا کرسکتا ہوں یا نہیں َ
الجواب حامدا ومصلیا
آپ جہاں مقیم ہو وہاں کے اعتبار سے اپنا اور اپنے نابالغ اولاد کا صدقۃ الفطر ادا کریں یعنی آپ اگر سعودی عرب میں مقیم ہیں تو سعود عرب کے لحاظ سے صدقۃ  الفطر کی جتنی رقم بنتی ہے وہ اداء کریں اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ۔
بیوی اور بالغ بچوں کا صدقۃ الفطر پاکستان کے لحاظ سے ادا کریں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ صدقۃ الفطر سعودی عرب میں دینا لازم نہیں آپ پاکستان میں بھی اس کو اداء کرسکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ رقم اس حساب سے دی جائے جو سعودی عرب میں بنتی ہے ۔
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ـ مشكول - (2 / 270)
فَالْمُعْتَبَرُ مَكَانُ الْمِلْكِ لَا الْمَالِكِ بِخِلَافِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ حَيْثُ يُعْتَبَرُ عَنْهُ مُحَمَّدٌ مَكَانَ الْمُؤَدِّي وَهُوَ الْأَصَحُّ خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (4 / 136)
فَإِذَا تَعَلَّقَتْ الصَّدَقَةُ بِذِمَّةِ الْمُؤَدِّي اُعْتُبِرَ مَكَانُ الْمُؤَدِّي وَلَمَّا تَعَلَّقَتْ الزَّكَاةُ بِالْمَالِ اُعْتُبِرَ مَكَانُ الْمَالِ
حاشية رد المختار على الدر المختار - (2 / 355)
قوله ( مكان المؤدي ) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه 
 قوله ( وهو الأصح ) بل صرح في النهاية و العناية بأنه ظاهر الرواية كما في الشرنبلالية وهو المذهب كما في البحر فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدي عنه 
حاشية على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح - (1 / 474)
تنبيه المعتبر في الزكاة فقراء مكان المال وفي الوصية مكان الموصي وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد وهو الأصح لأن رؤسهم تبع لرأسه در والله سبحانه وتعالى أعلم 
کتبہ مفتی آرزومند سعد 
فاضل جامعہ فاروقیہ کراچی

\
\DIFAEAHNAF دفاع احناف

نماز میں قرآن پر نظر پڑنا

نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا۔ ۔۔۔۔ عورت کی شرمگاہ پر نظر پڑنا۔۔۔۔
دور برطانیہ میں جب یہ لامذہب فرقہ پیدا ہوا تو شہوت رانی میں اتنا اگے بڑھا کہ نماز میں بھی ستر عورت کا انکار کر دیا چنانچہ فتویٰ دیا کہ ہر کہ در نماز عوتش نمایاں شد نمازش صحیح باشد(عرف الجادی ص۲۲) یعنی پوری نماز میں جس کی شرم گاہ سب کے سامنے نمایاں رہی اس کی نماز صحیح ہوتی ہے۔ اما آنکہ نماز زن اگرچہ تنہا باشد یا بازناں یا باشوھرر یا باد دیگر محارم باشد بے ستر تمام عورت صحیح نیست پس غیرمسلم ست (بدور الابلہ نواب صدیق حسن خان ص۳۹) یعنی عورت تنہار بالکل ننگی نماز پڑ سکتی   ہے۔

جھوٹے اہل حدیث قسط دوم


غیر مقلدین کا ایک اور بڑا جھوٹ:حنفیہ فاتحہ کی احادیث کو نہیں مانتے۔
اس سے بڑا جھوٹ دنیا میں نہیں ہوسکتا۔احادیث میں آتا ہے کہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔احناف کے نزدیک نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔اگر کوئی قصدا عمدا چھوڑ دے تو نماز نہ ہوگی اور اگر سہوا رہ جائے تو سجدہ سہو لازم ہوگا۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (2 / 137)
 أَمَّا الْوَاجِبَاتُ الْأَصْلِيَّةُ فِي الصَّلَاةِ فَسِتَّةٌ : مِنْهَا قِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ وَالسُّورَةِ

غیر مقلدین کے جھوٹ


جھوٹے اہل حدیث     مفتی آرزومند سعد (قسط ۱)
غیر مقلدین یا اہل حدیث کے نام پر جو فرقہ آج ہمارے درمیان موجود ہے اس بنیاد میں شاید جھوٹ اور فریب  پر رکھی گئی ہے اس لئے اس جماعت کا ہر چھوٹا بڑا جھوٹ بولنا اپنا حق سمجھتا ہے اور جھوٹ بولنے میں ذرا برابر بھی شرم محسوس نہیں کرتا۔ذیل میں غیر مقلدین کے ایک مصنف کے چند جھوٹ آپ کے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔

عقائد اہل حدیث


عقائد علماء اہلحدیث
علماء اہلحدیث کے چند باطل عقائد و نظریات
نوٹ
ہم جہاں بھی لفظ اہل حدیث ، فرقہ  اہلحدیث ، لامذہب  یا غیرمقلدین  کا لفظ استعمال کریں تو اس سے انگریز کے دور میں وجود میں آنے والا فرقہ مراد ہو گا۔ جیسا کہ  ان کے ایک بڑے بزرگ ہیں ان کی شہادت ہے  ، چنانچہ فرماتے ہیں

بیس رکعات تراویح عھد فاروقی اور عھد عثمان رضی اللہ عنھما میں

بیس رکعات تراویح عہد فاروقی و عہد عثمانی میں

اب تک ہم نے عہد فاروقی کے دور میں بیس رکعات تراویح کے ثبوت پر دلائل پیش کئے اب ہم بیس رکعات تراویح عہد فاروقی و عہد عثمانی پر دلائل پیش کرتے ہیں

بیس رکعات تراویح عھد فاروقی میں

بیس رکعات تروایح عہد فاروقی میں

روایت نمبر 1 ۔ 

امام ابو بکر بن ابی شیبہ فرماتے ہیں :